بنگلورو،6؍اگست(ایس او نیوز) ریاست کے معروف دانشور اور ترقی پسند سوچ کی نمائندگی کرنے والے ادیب کے ایس بھگوان نے یہ بیان دے کر ریاست کے بڑے طبقے لنگایت میں ہلچل مچادی ہے کہ بارھویں صدی کی معروف مذہبی شخصیت بسونا کا قتل کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ بسونا اپنی موت سے قبل کافی صحت مند تھے،اسی لئے یہ شبہ پیدا ہوتاہے کہ ان کا قتل کیا گیا ہے۔وہ اس لئے کہ بسونا ہندو مذہبی افکار کی کھل کر مخالفت کرتے تھے۔ انہوں نے دیگر مذاہب میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کئی وچن لکھے ہیں۔ اس تحریک کوبرداشت نہ کرتے ہوئے بسونا کا قتل کردیا گیا۔ بھگوان نے کہاکہ یہ دعویٰ کہ بسونا نے سمادی لے لی تھی بالکل جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
میسور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کوڈلاسنگم میں بسونا کاقتل کرکے انہیں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہندو مذہب سے وابستہ ایک اور مشہور شخصیت سوامی وویکانند کا بھی منظم سازش کے تحت قتل کردیاگیا۔اپنے ترقی پسند افکار کے سبب وہ ملک میں دوسرے گوتم بدھ کا درجہ حاصل کرنے والے تھے، لیکن ایسے وقت میں ان کی موت واقع ہوئی جب کہ وہ بالکل صحت مند تھے۔ اسی بنیاد پر یہ شبہ پیدا ہوتاہے کہ کہیں ان کا بھی قتل تو نہیں کیاگیا؟۔
لنگایت طبقے سے وابستہ مٹھوں نے جہاں کے ایس بھگوان کے دعوے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے تو اس کے جواب میں کے ایس بھگوان نے کہا ہے کہ ان کا یہ دعویٰ تحقیق کی بنیاد پر ہے، جو لوگ ان کی رائے سے اتفاق نہیں رکھتے انہیں اپنی رائے پر قائم رہنے کا پورا اختیار ہے۔